حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف اہلِ سنت عالمِ دین اور بین الاقوامی اسلامی اسکالر مولوی سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال پر آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے جامعہ سید احمد شہید، کٹولی، ملیح آباد پہنچ کر مرحوم کے فرزند مولوی سید یوسف حسینی ندوی اور دیگر متعلقین و وابستگان سے ملاقات کی اور دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
تعزیتی ملاقات کے دوران مولوی سید یوسف حسینی ندوی نے اپنے والد مرحوم کی علمی، دینی اور ملی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی اتحادِ بین المسلمین، اعتدال اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مرحوم کے ایران اور عراق کے متعدد اسفار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عالمِ اسلام کے اہم مسائل پر ہمیشہ جرات مندانہ مؤقف اختیار کرتے تھے اور موجودہ حالات میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کو امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد سے تعبیر کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے والہانہ محبت تھی اور وہ ہمیشہ ان کے دفاع کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ ان کے بقول، مرحوم اکثر فرمایا کرتے تھے: "میرے لئے یہی کافی ہے کہ روزِ محشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما دیں کہ یہ میرے اہلِ بیتؑ کا مدافع تھا۔"
اس موقع پر حجۃ الاسلام مولانا سید اشرف علی الغروی نے مرحوم کی دینی، علمی اور فکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی نے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی محبت اور اتحادِ امت کے فروغ کے لئے جو مثبت کردار ادا کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے مسلمانوں کے درمیان باہمی قربت، رواداری اور ہم آہنگی کے لئے جو مشن شروع کیا تھا، اسے جاری رہنا چاہیے تاکہ امتِ مسلمہ کے درمیان موجود فاصلے کم ہوں اور اتحاد و اخوت کی فضا مزید مضبوط ہو۔
تعزیتی ملاقات میں مولانا سید علی ہاشم عابدی، مولانا مکاتب علی خان، مولانا حافظ سید محمد عباس، مولانا سید محمد عباس واعظ اور مولانا حسن عباس معروفی سمیت متعدد علماء، طلبہ بھی موجود تھے۔









آپ کا تبصرہ